یادیں کسی بھی رنگ میں ستاتی ھے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, pakistanاکثر میں سوچتی ھوں سوال اٹھتا ھے
تم جو لکھہ رھے ھو ایسا کیوں لکھہ رھے ھو
مجھے لکھہ رھے ھو ایسا کیوں کر رھے ھو
کیا سب کی باتیں یادیں میری جیسی ھوتی ھے
ھاں محبت اور چاھت سب ایک سی ھوتی ھے
نام بدل جاتے ھے صورت بدل جاتی ھے
کسی کو دیکھ کر کسی کو پڑھکر
کسی کی یادیں کیوں آ جاتی ھے
دل کے کسی کونے میں اب بھی تیری یادیں ھے
یہی تو محبت ھے جو جاکتی رھتی ھے کسی کے رنگ میں ستاتی ھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






