یقین۔۔۔
Poet: roop zahra By: roop zahra, kirachiمیرے ساتھی یہ سچ ھے
کہ تم بن میرے گھر کا آنگن سونا ہے
میرے دل کے گلشن میں بھی
اب کوئی پھول نہیں کھلتا
شب ہجر میری آنکھوں کو
کوئی خواب بھی نھیں ملتا
مگر جاناں مجہے امید ہے کہ
تم اک دن واپس لوٹو گے
میرے گھر کے سونے آنگن م
پھر سے خشیوں کا ڈیرہ ہوگا
دل کے اجڑے آنگن میں بھی
خشبو کا بسیرا ہوگا
یہ ہجر کی شب بھی کٹ جائے گی
اور روشن نیا سویرا ہوگا
میرے ساتہی مجہے یقیں ھے
کہ اک دن زرور پورا خواب یہ میرا ہوگا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






