یقین ِ سحر- خطاب لاہور
Poet: Ishraq Jamal Ashar Chishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, Dubai-UAE وطن کی قسمت سنوار دینگے
خزاں کے بدلے بہار دینگے
ہم اجڑے اجڑے سے اس چمن کو
نئے گلوں کا نکھار دینگے
وفاء پرستی کی مئے پلا کر
نظر کو سچا خمار دینگے
جو نفرتوں کا شکار تھے یاں
انہیں محبت کا ہار دینگے
جو چاہتوں کو ترس رہے تھے
انہیں عقیدت کا پیار دینگے
وہ جس نے پھولوں پہ حق جمایا
اب اس کو بدلے میں خار دینگے
جو موت کے رنگ بکھیرتا تھا
اب اس کو تختہ د ا ر دینگے
جو ظلم سہہ کر بھی چپ رہے تھے
ہم ان لبوں کو پکار دینگے
کچل کے وقعت جو کھو چکی ہیں
ا ن عزتو ں کو و قا ر دینگے
جو تیغ کُند ہو کہ بے ضر ر ہے
اب اس کو جرات کی دھار دینگے
جفائیں ساری شما ر کر کے
جفاء پرستوں پہ وا ر دینگے
جو چھپ رہا تھا ستم کے ڈر سے
ہم اس کو طا قت حصار دینگے
تباہ و برباد ہے معیشت
ہم اس کی حالت سدھار دینگے
جو بھیک دیتے ہیں آ ج ہم کو
ہم آ کر ان کو ادھار دینگے
اجالے چھینے گا جو یہاں پر
اسے اندھیروں کے غا ر دینگے
ڈبویا کچے مکا ں کو جس نے
ہم اس کو نفر ت کی نا ر دینگے
مفا د ملت کے رنگ سجا کر
انا ء کے پرچم کو پھا ڑ دینگے
جو آندھیوں میں ٹہر نہ پا ئے
ہم ا س شجر کو اکھا ڑ دینگے
جو موت آئے گی راستے میں
یقیں سے ا س کو پچھا ڑ دینگے
بس ایک جا ں ہے یہ غم ہے قا ئد
ہز ا ر ہوں تجھ پہ وا ر دینگے
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا






