یقیناً میں ہی بدلا ہو
Poet: محمد عاقب زرداد By: Muhammad Aqib Zardad, Kohatوہی آنگن میں پھیلی زرد سی کرنوں کا جھرمٹ ہے
وہی ایک بوڑھا برگدہے، وہی ایک پینگ ہے اس پر
وہی لوگوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ، وہی سادہ سی باتیں ہیں
وہی گاؤں کا مکھیا ہے، وہی حقوں کی گڑ گڑ ہے
وہی سرسوں کی سوندھی بو، وہی کھیتوں کی ہریالی
وہی تالاب پہ بیٹھی سَکھی بہنوں کی باتیں ہیں
وہی بابا کی سوہنی دھی، وہی لمبی سی چنری ہے
وہی اماں کی میٹھی ڈانٹ سے ڈرتے جواں کڑیل
وہی ساون کی رم جھم ہے، وہی کالی گھٹائیں ہیں
وہی کَمیوں کی بے چینی، وہی تاروں کی مستی ہے
وہی بجلی سے کوسوں دور، وہی پانی کی کمیابی
وہی لوگوں میں خوشیوں کی عجب بہتات جیسے ہے
وہی اپلوں پہ پکتی خوشنما گیہوں کی روٹی ہے
وہی مہمان خانے میں بڑے بوڑھوں کی بیٹھک ہے
وہی شاموں میں منڈیروں پہ پنچھی بیٹھ جاتے ہیں
وہی دادا کا بچوں کو گھمانے ساتھ لے جانا
کھلونے بھی دلا دینا، جلیبی بھی کھلا دینا
وہی ابا کا چھٹی پر کبھی جب گاؤں آ جانا
وہی دادی کی آنکھوں میں اچانک نور آ جانا
وہ سردی کی ٹھٹرتی شام میں چاۓ کی پیالی بھی
وہ ماں کی گود میں سر کو ٹکا کر آنکھ لگ جانا
نہیں بدلا میرا گاؤں، سبھی کچھ پہلے جیسا ہے
مگر لگتا ہے، بدلا ہے، یقیناً میں ہی بدلا ہوں
مجھے اب یاد آتا ہے جسے میں چھوڑ آیا ہوں
وہ ماں کی گود میں سونا، وہ پیڑوں سے میری باتیں
وہ سادہ لوح لوگوں کی وہ سادہ، صاف سی باتیں
ازاں ہوتے ہی گھر کو تیز قدموں لوٹ آنا بھی
بہت کچھ یاد آتا ہے اور آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
سبھی کچھ پہلے جیسا ہے، مگر لگتا ہے بدلا ہے
یقیناً میں ہی بدلا ہوں، یقیناً میں ہی بدلا ہوں
کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا
خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا
کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا
ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا
ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا
ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں
اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا
ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو
وفا کی راہ میں ہزار ہا دیّے گئے تو کیا
ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے
ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا
ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی
تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا
کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی
نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا
رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا
مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔
دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،
کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔
میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،
وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔
ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،
ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم






