یوُں بیکار نہ بیٹھو دن بھر، یوں پیہم آنسو نہ بہاؤ
Poet: Ahmed Nadeem Qasmi By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIیوُں بیکار نہ بیٹھو دن بھر، یوں پیہم آنسو نہ بہاؤ
اتنا یاد کرو کہ بالآخر آسانی سے بھوُل بھی جاؤ
سارے راز سمجھ لو لیکن خود کیوں ان کو لب پر لاؤ
دھوکا دینے والا رو دے، ایسی شان سے دھوکا کھاؤ
ظلمت سے مانوس ہیں آنکھیں، چاند اُبھرا تو مند جائیں گی
بالوں کو اُلجھا رہنے دو، اِک الجھاؤ سو سلجھاؤ
کل مجھ پر الزام تھا سارا، آج تو فق ہے رنگ تمھارا
کل تم مجھ سے شرمائے تھے، آج آئینے سے شرماؤ
پہلو تو لُٹ جائے گا لیکن آنکھیں تو ویراں نہ رہیں گی
بیشک میرے پاس نہ بیٹھو لیکن اِتنی دُور نہ جاؤ
رَس کا زمانہ بیت چکا ہے، اب مَس ہے معراجِ محبّت
مَیں اِس دَور کا دیوانہ ہوُں، دل میں نہیں، نظروں میں سماؤ
کل کو کل پر رکھو، جب کل آئے گا دیکھا جائے گا
آج کی رات بہت بھاری ہے، آج کی رات یہیں رہ جاؤ
کب تک یوُں پردے پرد ے میں حُسن محبّت کو جھُٹلاتا
موت کا دن بھی حشر کا دن ہے، چھُپنے والو، سامنے آؤ
دَورِ خزاں میں سُنتا ہوُں تخلیق کا یہ آہنگِ مسلسل
کلی کلی کی نرم چٹک میں پھوُلو! میری آہٹ پاؤ
مرنے سے کُچھ کام چلا تو اے دم سازو، مر بھی لیں گے
مرنا تو برحق ہے لیکن تم جینے سے باز نہ آؤ
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






