یوں تنہا جینے کی مجھے عادت سی ہو گئی ہے

Poet: M.Masood By: M.Masood, Nottingham

یوں تنہا جینے کی مجھے عادت سی ہو گئی ہے
آنجان راہوں پر چلنے کی عادت سی ہو گئی ہے

وہ میری محبت سے رہیں بے بے خبر تاقیامت
مجھے یہ دُعا مانگنے کی عادت سی ہو گئی ہے

بتاو کب تک جتلاوں گا میں اُن سے محبت اپنی
اُن آنکھوں کو سچ بولنے کی عادت سی ہو گئی ہے

جانے کیوں شام ڈھلتےہی یہ آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
چہرے کو اِشکوں میں چھپانے کی عادت سے ہو گئی ہے

آسمان میں بھی چمکتا ہر ستارہ یہ گواہی دے گا
تمہاری یاد میں نیندیں گوانے کی عادت سی ہو گئی ہے

اِس دنیا میں شاہد میری محبت کو کوئ سمجھ نہ سکے
لوگوں کو مجھے نہ سمجھانے کی عادت سی ہو گئی ہے

اب تو محفل میں ہر شخص یہ گلہ کرتا ہے مسعود
مجھے تنہائیوں میں ڈُوبنے کی عادت سی ہو گئی ہے

Rate it:
Views: 1047
02 Jan, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL