یوں خط تمھارے جانِ ادا چومتا ہوں میں
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiیوں خط تمھارے جانِ ادا چومتا ہوں میں
ہر ایک لفظ لفظ لِکھا چومتا ہوں میں
تم نے سجایا تھا جو مرے کمرے میں کبھی
ہر صبح وہ اٹھا کے دِیا چومتا ہوں میں
اِس نے تمھارے ہاتھوں کو چوما ہے بارہا
یوں پاؤں میں جہاں بھی حِنا چومتا ہوں میں
الفت میں اِس سے بڑھ کے سعادت ہو کیا مجھے
کہ تیرے پا کی خاک اُٹھا چومتا ہوں میں
میرے نصیب میں جو بظاہر وفا نہیں
کاغذ پہ لکھ کے لفظ وَفا چومتا ہوں میں
اوقات اپنی بھول نہ جاؤں سو اس لیۓ
ہر روز اپنی چاک قَبا چومتا ہوں میں
باقرؔ یوں تیرے نام سے رغبت ہوئی مجھے
گو ریت پر ہو نام ترا چومتا ہوں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






