یوں نہ جینا تھا ہمیں جیسے جیے جاتے ہیں ہم
Poet: Zeeshan Lashari By: Zeeshan Lashari, Kunriیوں نہ جینا تھا ہمیں جیسے جیے جاتے ہیں ہم
زخم سینے تھے ہمیں اور لب سیے جاتے ہیں ہم
یہ غم و اندوہ میرے یوں تو ٹلنے سے رہے
زہر پینا تھا ہمیں اور مے پیے جاتے ہیں ہم
ان کے آنے کی خبر تھی ہم چراغاں گھر کئے
آکے کہتے ہیں بجھا کے سب دیے جاتے ہیں ہم
لوگ کہتے تھے کہ مر کے سب یہیں رہ جائے گا
حسرت و یاس و الم سب کچھ لیے جاتے ہیں ہم
اس جہانِ نو میں الفت کے طریقے اور ہیں
یاں وفا چلتی نہیں اب جو کیے جاتے ہیں ہم
ایک جھوٹی بھی تسلی تک نہ دی جس نے ہمیں
شانؔ اس بیداد گر کو جاں دیے جاتے ہیں ہم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






