یوں ٹوٹ کر تو خود کو بکھرنے نہ دیں گے ہم

Poet: Azra Naz By: Azra Naz, UK

یوں ٹوٹ کر تو خود کو بکھرنے نہ دیں گے ہم
بے موت اپنے آپ کو مرنے نہ دیں گے ہم

پھر سے کیا ہے عہد کہ اب دِل کے شہر میں
یادوں کے کارواں کو ٹھہرنے نہ دیں گے ہم

اے دِل پرایٔ آگ میں جلنا بہت ہوا
اب اور کا کیا تجھے بھرنے نہ دیں گے ہم

اب کھل چکے ہیں ہم پہ سبھی آگہی کے در
خود کو کِسی کے جبر سے ڈرنے نہ دیں گے ہم

پتھر کی ہو نہ جایںٔ یہ آنکھیں بھی ایک دِن
دریا اِن آ نسوؤں کا اُترنے نہ دیں گے ہم

سُن اے امیرِ شہر ترا دور اب گیا
جو آج تک کیا تجھے کرنے نہ دیں گے ہم

مدُت کے بعد آپ سے ملنا ہوا نصیب
اِس پل کو روک لیں گے گذرنے نہ دیں گے ہم

عذراؔ بدلنے ہوں گے ہمیں اِسکے خدو خال
چہرا غمِ جفا کا نِکھرنے نہ دیں گے ہم

Rate it:
Views: 747
01 Dec, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL