یوں ٹوٹ کر تو خود کو بکھرنے نہ دیں گے ہم
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, UKیوں ٹوٹ کر تو خود کو بکھرنے نہ دیں گے ہم
بے موت اپنے آپ کو مرنے نہ دیں گے ہم
پھر سے کیا ہے عہد کہ اب دِل کے شہر میں
یادوں کے کارواں کو ٹھہرنے نہ دیں گے ہم
اے دِل پرایٔ آگ میں جلنا بہت ہوا
اب اور کا کیا تجھے بھرنے نہ دیں گے ہم
اب کھل چکے ہیں ہم پہ سبھی آگہی کے در
خود کو کِسی کے جبر سے ڈرنے نہ دیں گے ہم
پتھر کی ہو نہ جایںٔ یہ آنکھیں بھی ایک دِن
دریا اِن آ نسوؤں کا اُترنے نہ دیں گے ہم
سُن اے امیرِ شہر ترا دور اب گیا
جو آج تک کیا تجھے کرنے نہ دیں گے ہم
مدُت کے بعد آپ سے ملنا ہوا نصیب
اِس پل کو روک لیں گے گذرنے نہ دیں گے ہم
عذراؔ بدلنے ہوں گے ہمیں اِسکے خدو خال
چہرا غمِ جفا کا نِکھرنے نہ دیں گے ہم
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






