یوں کرو
Poet: M Usman Jamaie By: M Usman Jamaie, karachiایک پھانس چبھتی ہے
اور درد ماضی کے سارے جاگ اٹھتے ہیں
اک خراش آتی ہے
اور گھاؤ وہ سارے
جن کو بھرنے میں ہم نے
مدتیں بِتائی ہیں
پھر سے رِسنے لگتے ہیں
ٹیسیں اٹھنے لگتی ہیں
کرب چبھنے لگتے ہیں
درد کی مسافت میں
اور رہِ اذیت میں
بے ہُشی کی حالت میں
آگہی یہ ہوتی ہے
پھانس یہ شناسا ہے
یہ خراش اپنی ہے
ان شناسا پھانسوں کو
اپنی ان خراشوں کو
اپنا جاننے ہی میں
درد ہے، اذیت ہے
ایک بار رد کردو
عمر بھر کی راحت ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






