یکسانیت سے دل میرا اَکتانے لگا ہے
Poet: UA By: UA, Lahoreیکسانیت سے دل میرا اَکتانے لگا ہے
کچھ اور نیا دل میرا اب چاہنے لگا ہے
محفل کی شورشوں سے گھبرانے لگا ہے
خلوت نشیں ہوجاؤں اَکسانے لگا ہے
ہر روز وہی قصے ہر وز وہی باتیں
دل واقعہ نیا کوئی دوہرانے لگا ہے
یکسانیت سے دل میرا اَکتانے لگا ہے
کچھ اور نیا دل میرا اب چاہنے لگا ہے
برسوں سے ایک ہی نشست ایک ہی فریضہ
لکیر کا فقیر بن کے اب نہیں رہ سکتا
کہنہ روایتوں سے جی چَرانے لگا ہے
یکسانیت سے دل میرا اَکتانے لگا ہے
کچھ اور نیا دل میرا اب چاہنے لگا ہے
اطراف کی دیواریں سب ڈھانے لگا ہے
حصار اب کوئی نیا بنانے لگا ہے
خود کو سمیٹنے لگا ہے ایک دائرے میں
ہر سمت سے دھیان کو ہٹانے لگا ہے
جان اپنی ہر مدار سے چھڑانے لگا ہے
مجاز کے سب دائرے گرانے لگا ہے
قبلہ بس ایک مرکزہ اپنانے لگا ہے
یکسانیت سے دل میرا اَکتانے لگا ہے
کچھ اور نیا دل میرا اب چاہنے لگا ہے
محفل کی شورشوں سے گھبرانے لگا ہے
خلوت نشیں ہوجاؤں اَکسانے لگا ہے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






