یہ الگ بات کہ فرصت بھی نہیں ملتی ہے

Poet: عالم نظامی By: مصدق رفیق, Karachi

یہ الگ بات کہ فرصت بھی نہیں ملتی ہے
خود سے مل کر ہمیں راحت بھی نہیں ملتی ہے

ہم تو کرنا بھی نہیں چاہتے دل کا سودا
اور مناسب ہمیں قیمت بھی نہیں ملتی ہے

عشق وہ جرم ہے اس جرم کو کرنے والو
اس کے مجرم کو ضمانت بھی نہیں ملتی ہے

دوڑتے بھی نہیں شہرت کے ہم آگے پیچھے
اور آسانی سے شہرت بھی نہیں ملتی ہے

ہر جگہ لوگ مہذب بھی نہیں ہوتے ہیں
ہر جگہ دوستو عزت بھی نہیں ملتی ہے

ہم نے مانا کہ برے آپ نہیں ہیں لیکن
آپ میں کوئی شرافت بھی نہیں ملتی ہے

عیش بیٹے کی کمائی سے بہو کرتی ہے
ماں کو اب دودھ کی اجرت بھی نہیں ملتی ہے

ہر کسی سے نہیں رکھتا ہوں میں رشتہ عالمؔ
ہر کسی سے یہ طبیعت بھی نہیں ملتی ہے
 

Rate it:
Views: 235
07 May, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL