یہ اور بات دور رہے منزلوں سے ہم

Poet: آلوک شریواستو By: مصدق رفیق, Karachi

یہ اور بات دور رہے منزلوں سے ہم
بچ کر چلے ہمیشہ مگر قافلوں سے ہم

ہونے کو پھر شکار نئی الجھنوں سے ہم
ملتے ہیں روز اپنے کئی دوستوں سے ہم

برسوں فریب کھاتے رہے دوسروں سے ہم
اپنی سمجھ میں آئے بڑی مشکلوں سے ہم

منزل کی ہے طلب تو ہمیں ساتھ لے چلو
واقف ہیں خوب راہ کی باریکیوں سے ہم

جن کے پروں پے صبح کی خوشبو کے رنگ ہیں
بچپن ادھار لائے ہیں ان تتلیوں سے ہم

کچھ تو ہمارے بیچ کبھی دوریاں بھی ہوں
تنگ آ گئے ہیں روز کی نزدیکیوں سے ہم

گزریں ہمارے گھر کی کسی رہ گزر سے وہ
پردہ ہٹائیں دیکھیں انہیں کھڑکیوں سے ہم

جب بھی کہا کہ یاد ہماری کہاں انہیں
پکڑے گئے ہیں ٹھیک تبھی ہچکیوں سے ہم
 

Rate it:
Views: 197
14 May, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL