یہ اِک ٹینشن۔۔۔۔۔۔۔

Poet: imran Gohar By: imran Gohar, Faisalabad

یہ اِک ٹینشن
مجھے اندر ہی اندر مار ڈالے گی
نہ جانے پر سکون نیند مجھے ہو نصیب کب
کبھی فکرِسحر رہے تو کبھی انتظارِ شب
بھلا
یوں ہی حالات کے بھروسے کب تک مجھ کو
در بدر ٹھوکروں کا سامنا کرنا ہو گا
مفلسی کے سفر کے اِس تاریک رستے پر
چاک در چاک لبادہِ بے بسی اوڑھے
ہر ایک شخص میرے رو برو کھڑا ایسے
کسی سنگین حادثے سے ڈرا ہو جیسے
میں
اِک لمحے کو سبھی رنج و ستم بھول تو جاؤں
پر
فضا میں جب کسی طائر کو بھٹکتا دیکھوں
کسی بچے کو بنا دودھ بلکتا دیکھوں
کسی بوڑھے کو بڑھاپے میں سسکتا دیکھوں
کسی نو عمر کو چوری پہ آمادہ دیکھوں
تو گویا سوچ کی اِک گہری ندی میں ڈوب جاتا ہوں
نہ جانے اور کتنے ہدفِ مفلسی ہوں گے
نہ جانے کتنے دلوں میں ابھی آزار ڈالے گی
یہ اِک ٹیشن مجھے اندر ہی اندر مار ڈالے گی

Rate it:
Views: 663
31 Dec, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL