یہ آپ بزرگوں کی دعاؤں کا اثر ہے
Poet: سید عبدالستار مفتی By: سید عبدالستار مفتی, Samundri Faisalabadہر گام پہ محشر کا سماں پیشِ نظر ہے
یہ کرہ ء خاکی ہے کہ آفات کا گھر ہے
کیا اس کا پتہ تم کو ہے کچھ اس کی خبر ہے
آئینہ جسے سمجھے ہو , وہ میرا جِگر ہے
میں راہِ زمانہ میں جو برباد ہؤا ہوں
یہ آپ بزرگوں کی دعاؤں کا اثر ہے
تقدیس سے خالی ہیں ترے حسن کے جلوے
اب تیری طرف دیکھنا , توہین ِ نظر ہے
ہنستی ہوئی آنکھوںسے مرے دل کو نہ دیکھو
یہ گوشہ ء فردوس نہیں , سُونا نگر ہے
چلتا ہوں تو چلتی ہے کسی جام کی صورت
یہ گردش ِ دوراں بھی مرے زیرِ اثر ہے
تو نور کا پُتلا ہے , کہ تارا ہے سحر کا
ماتھے کو ترے دیکھ کے شرمندہ قمر ہے
جا دیکھ محبت کے گراں قدر نطارے
اے نگہِ طلب روزنِ دیوار بھی در ہے
انسان کی حالت کا نہ کر تجزیہ اے دوست
جو عرش پہ اڑتا تھا کبھی خاک بسر ہے
میں خوب ہوں کیا خوب ہوں کچھ میری نہ پوچھو
خلوت سے گریزاں ہوں میں جلوت پہ نظر ہے
صحرا میں بھی تنہائی ہے گلستان بھی ہے ویراں
میں ڈھونڈھ رہا ہوں وہ ادھر ہے یا ادھر ہے
یاحسن کو اپنا لے ، یا لگا عشق کو دل سے
اک چاند کی بستی ہے ، اک کانٹوں کا نگر ہے
ساحل پہم پہنچنا ہے سلامت مجھے اک دن
مفتی مری کشتی کے تعاقب میں بھنور ہے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






