یہ آپ بزرگوں کی دعاؤں کا اثر ہے
Poet: سید عبدالستار مفتی By: سید عبدالستار مفتی, Samundri Faisalabadہر گام پہ محشر کا سماں پیشِ نظر ہے
یہ کرہ ء خاکی ہے کہ آفات کا گھر ہے
کیا اس کا پتہ تم کو ہے کچھ اس کی خبر ہے
آئینہ جسے سمجھے ہو , وہ میرا جِگر ہے
میں راہِ زمانہ میں جو برباد ہؤا ہوں
یہ آپ بزرگوں کی دعاؤں کا اثر ہے
تقدیس سے خالی ہیں ترے حسن کے جلوے
اب تیری طرف دیکھنا , توہین ِ نظر ہے
ہنستی ہوئی آنکھوںسے مرے دل کو نہ دیکھو
یہ گوشہ ء فردوس نہیں , سُونا نگر ہے
چلتا ہوں تو چلتی ہے کسی جام کی صورت
یہ گردش ِ دوراں بھی مرے زیرِ اثر ہے
تو نور کا پُتلا ہے , کہ تارا ہے سحر کا
ماتھے کو ترے دیکھ کے شرمندہ قمر ہے
جا دیکھ محبت کے گراں قدر نطارے
اے نگہِ طلب روزنِ دیوار بھی در ہے
انسان کی حالت کا نہ کر تجزیہ اے دوست
جو عرش پہ اڑتا تھا کبھی خاک بسر ہے
میں خوب ہوں کیا خوب ہوں کچھ میری نہ پوچھو
خلوت سے گریزاں ہوں میں جلوت پہ نظر ہے
صحرا میں بھی تنہائی ہے گلستان بھی ہے ویراں
میں ڈھونڈھ رہا ہوں وہ ادھر ہے یا ادھر ہے
یاحسن کو اپنا لے ، یا لگا عشق کو دل سے
اک چاند کی بستی ہے ، اک کانٹوں کا نگر ہے
ساحل پہم پہنچنا ہے سلامت مجھے اک دن
مفتی مری کشتی کے تعاقب میں بھنور ہے
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔






