یہ بات الگ آپ جو انجان رہے ہو
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملاشیایہ بات الگ آپ جو انجان رہے ہو
کچھ روز مرے دل کے تو مہمان رہے ہو
کیوں چھوڑ کے جانا ہے فقط اتنا بتا دو
کیوں پہلے مرے نام کی پہچان رہے ہو
آ جاؤ تمہیں اپنی نگاہوں میں سجا لوں
تم حسنِ تمنا پہ تو قربان رہے ہو
بن آپ کے کچھ بھی نہیں دیوان ہمارے
ہر شعر میں بس آپ ہی گردان رہے ہو
ہونٹوں کو محبت کے تبسم سے سجا دو
پہلے بھی صنم آپ ہی مسکان رہے ہو
کیا نکلا ہے اپنوں سے بغاوت کا نتیجہ
دنیا سے سدا دست و گریبان رہے ہو
واقف ہے مگر پھر بھی بتا دو اسے وشؔمہ
اس دل کی تمنا تمہیں ، ارمان رہے ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






