یہ بشر پستی ذلت کے سفر میں ہوگا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ROMANIAیہ بشر پستی ذلت کے سفر میں ہوگا
جوشِ پرواز تو شاہین کے پر میں ہوگا
ظرف والا ہی ظفر یاب ہوا کرتا ہے
ورنہ کم ظرف تو بس عیب و ہنر میں ہوگا
ایک تصویر سی آنکھوں میں جو لہراتی ہے
عکس اس آئنہ چہرے کا نظر میں ہوگا
ختم ہے عشق میں اب سانس کی گنتی یارب
اب سمٹ کر یہ وجود اپنا صفر میں ہوگا
پی کے امرت بھی مجھے چین نہیں ہے وشمہ
اب سکوں زہر کے سفاک اثر میں ہوگا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






