یہ بھی صحیح جیون کے لئے کہ شکتی ہے تو کچھ ٹھیک ہے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiیہ بھی صحیح جیون کے لئے کہ شکتی ہے تو کچھ ٹھیک ہے
مگر تیرے نیتوں میں کہیں راستی ہے تو کچھ ٹھیک ہے
میری منزلوں کے راستے سبھی کناروں سے شروع ہوتے ہیں
لہروں کو چیر کے نکلے ایسی کشتی ہے تو کچھ ٹھیک ہے
مانا کہ موت میری حقیقی جگہ مگر موت کی نوبت نہیں
اب کہ ہر لمحہ پوچھتا ہے کہ زندگی ہے تو کچھ ٹھیک ہے
شورش تو آس پاس ہے لیکن الجھنیں اتنی نہیں
دراڑوں سے ہٹکر بات دل کی ہے تو کچھ ٹھیک ہے
تم اپنے محافظ بنو کہ شرارت سرپرست نہ رہے اتنی
ہاں اگر پرانی یاد کی ھچکی ہے تو کچھ ٹھیک ہے
نظروں سے کترا جاؤ منظر تو خوب ہیں بھٹکنے کے لئے
اگر بے وجہ آنکھ پھڑکی ہے تو کچھ ٹھیک ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






