یہ تھوڑا سا جیون ادھورا سا موسم
Poet: AAzi By: AAzi, Guranwalaیہ تھوڑا سا جیون ادھورا سا موسم
یہ رنگوں کی چاہت گلابوں کی حسرت
یہ روشن سویرا یہ مدہم اندھیرا
کسی روز تنہا ملو تو بتائیں
خیالوں کی راہیں چمکتی نگاہیں
وفائیں نبھانا ادائیں دکھانا
یہ اک سلسلہ ہے مگر فاصلہ ہے
جواں ہے امیدیں اڑی ہیں نیندیں
کسی روز تنہا ملو تو بتائیں
اگر جان جاؤ تو احساس رکھنا
اسے راز رکھنا
کرو اک وعدہ بنا لو ارادہ
ملاقات کر لو وہی بات کر لو
کسی روز تنہا ملو تو بتائیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






