یہ جو وفا کی پتلی بنی ہوئی ہو۔۔۔
Poet: Uzair Ahmad By: UZAIR, Islamabadیہ جو وفا کی پتلی بنی ہوئی ہو۔۔۔
یہ جو رنگوں کی تتلی بنی ہویئ ہو۔
یہ جو چمکتی چاندنی بنی ہوئی ہو۔
ہمارے دل کی جو دڑکن بنی ہوئی ہو۔
سوال یہ ہے کہ ایسے کب تک بنی رہوگی؟
میں تو بادل ہوں برس جاتا ہوں!
میں تو کاجل ہوں اتر جاتا ہوں!
میں تو پاگل ہوں بدل جاتا ہوں!
سوال یہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا تم بھی بدل رہی ہو؟
یا
بے وفائی میں ڈھل رہی ہو؟
(لڑکی کا جواب)
جواب سارے سوالوں کا یہ ہو،
ًمیں ترے پیار کی پرچایئوں میں،
جانا!
میں ترے پیار کی گہرایئوں میں،
اچل رہی ہوں، پسل رہی ہوں۔
اب جو کوئی سوال پوچھو،
یا مری محبت کو بوجھو،
تو۔۔
تو دل سے کہنا۔۔
میں تیری خاطر ہی پل رہی ہوں،
تیرے لئے ہی سنبھل رہی ہوں،
تیرے لئے ہی سنبھل رہی ہوں۔۔۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







