یہ جو کاش ہے کاش حقیقت بن جائے
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL, Gujranwalaکاش میرے آنگن میں تری پائل شور مچائے
تریاں چوڑیاں کنکھے ہر سو تُو نظر آئے
جب میں لوٹ کے آیا کروں گھر کو
تُو پوچھے کھانا مجھے تُو ہی پانی پلائے
دن بھر کی تھکن سے جب جسم توٹ جائے
تُو چین بخشے مجھے محبت سے گلے لگائے
میرے آنسوؤں کو پونجھ کر میری آنکھوں سے
میرے درد مٹا کے مجھے تُو جینا سکھائے
میری فکر و ذکر تُو کرے تری فکر میں کروں
زندگی ساری اِسی عمل میں ہی بیت جائے
سہرا باندھ کے آؤں ترے گھر سنگ باراتیوں کے
تُو سرخ لبا پہنے دلہن بن کے میری جانب آئے
نہال دعا ہے تو بس اب اتنی سی خدا سے
یہ جو کاش ہے کاش حقیقت بن جائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






