یہ جو کتاب زندگی کی کتاب ہے
Poet: Majassaf Imran By: Majassaf Imran, Gujratیہ جو کتاب زندگی کی کتاب ہے وہ کتاب تم ہی کتاب ہو
جو نہ لکھ سکا میں آج تک وہ نصاب تم ہی نصاب ہو
میری دلخواه کی جو حد تھی میری چاہتوں کا جو سما تھا
میری آنکھوں میں جو شمار تھا وہ حساب تم ہی حساب ہو
چاہوں بھی تو تجھے نہ بھولا سکوں یہ بات قلبِ نَشیں رکھو
مہک رہی ہے جس سے زندگی وہ گلاب تم ہی گلاب ہو
میرا دن جو میری رات ہے ہر لمحہ اُداس اُداس ہے
جو خُمار مجھ میں بھرا ہوا وہ خُمار تم ہی خُمار ہو
میری نیند جو مجھ سے روٹھ گئی ہر جاہ ہوں تنہا تنہا
یہ جو سلسلوں کی ہے سب وجہ وہ وجہ تم ہی وجہ ہو
مجھے حاصل ہوا جو نام شاعر مجھے حاصل ہوا جو مُقام شاعر
میری شاعری جو سب نفیس ہے وہ نفیس تم ہی نفیس ہو ۔۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






