یہ دل کا درد ہے تو خریدار کیا کریں

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Karachi

یہ دل کا درد ہے تو خریدار کیا کریں
اس مفلسی میں ہم سرِ بازار کیا کریں

اب کم نصیب دل یہ مرا چاہتا ہے کیا
"خود سے سوال کرتے ہیں ہر بار کیا کریں

چاروں طرف سے صورتِ جاناں ہے جلوہ گر
دل صاف ہے تو صاحبِ کردار کیا کریں

طبل و عَلم ہے پاسں نہ ان کا ہے مال و زر
اب اپنے اختلاف میں سردار کیا کریں

صَیاد کر رہا ہے پرندوں کا پھر شکار
بلبل کی باغ میں یہاں چہکار کیا کریں

اہلِ وفا کا نام بھی بدنام کر دیا
اس کے سوا یہ اور بھی بیکار کیا کریں

یوں مدّعی حسد سے نہ دے داد تو نہ دے
وشمہ غزل کے ہوگئے اشعار کیا کریں

Rate it:
Views: 448
26 Jan, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL