یہ دن بھی تیرے نام کیا خود سے بچھڑنا باقی ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Manilaہم نے سحر کو شام کیا خود سے بچھڑنا باقی ہے
یہ دن بھی تیرے نام کیا خود سے بچھڑنا باقی ہے
یاد رہی تری یہاں پھر تری یاد بھی گئی
ہم نے یہ اہتمام کیا خود سے بچھڑنا باقی ہے
یوں بھی ملے ہیں ان سے ہم تصو ر میں بار ہا
ہم نے انہیں سلام کیا خود سے بچھڑنا باقی ہے
اشکو ں سے لکھ دیا ہے شب غم کا یہ آخری خط
خط ہم نے یوں تمام کیا خود سے بچھڑنا باقی ہے
اپنی ہنسی بھی ہم نے اڑائی ہے کس قدر پھر
تیرا بھی احترام کیا خود سے بچھڑنا باقی ہے
یاد رہی تری یہاں پھر تری یاد بھی گئی
در سے ترے کلام کیا خود سے بچھڑنا باقی ہے
ان کے خطوط رکھ کے سر ہانے شب فراق میں
قاصد کو پھر سلام کیا خود سے بچھڑنا باقی ہے
وشمہ انہی کے حکم پہ چھوڑا ہے شہر کو ہم نے
صحرا میں پھر قیام کیا خود سے بچھڑنا باقی ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






