آستیں کے پالے ہوئے

Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, Quetta

چلے ہیں کاٹنے کو آستیں کے پالے ہوئے
ہمارے ہاتھوں جنہیں دان سب اجالے ہوئے

بہشت راس نہ آئی، تو لی زمیں ہم نے
سکون پا نہ سکے خُلد کے نکالے ہوئے

فساد ویسے بھی انسانیت کے حق میں نہیں
وگرنہ آج کے ہیں لوگ دیکھے بھالے ہوئے

نصیب کا جو لکھا ہے وہ مل کے رہتا ہے
لگے ہیں ماتھے وہی لوگ جو تھے ٹالے ہوئے

گذشتہ رات ہؤا کیا کہ لڑکھڑاتے رہے
بڑی ہی دیر تلک خود کو خود سنبھالے ہوئے

کیا تھا جس نے بھی دعویٰ، غلط نکل آیا
مگر یہ سچ ہے کہ ہمدرد اپنے چھالے ہوئے

پلٹ کے گود میں اپنی ہی دیکھو آن گرے
رشیدؔ درد کے سکّے سبھی اچھالے ہوئے

Rate it:
Views: 166
13 Apr, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL