فلسطین کو بچانے چلو
Poet: اسد خان ماہی By: اسد رضا, Bhakkarظلمت کے اندھیروں میں حق کا دِیپ,جلانے چلو
اٹھو مسلمانوں,فلسطین کو,بچانے چلو
جو سو گئے ہیں محلوں میں,حکمرانانِ مسلماں
ان بیغرتوں کو نیند سے,جگانے چلو
دنیا کے جو ٹھیکیدار ہیں,انکو بھی آزما لیا ہم نے
مکر و فریب کے چہروں سے اب پردہ,اٹھانے چلو
اقصی کو تو ہم نہ بچاسکے اے میرے رب
صلاح الدین کا نام لے کر,دِل دشمن کو ,ہلانے چلو
یہ جو ڈرے بیٹھے ہیں,موت کے بہانے سے
اُن کو شجاعت کے قصّے,اب پھر سے,سنانے چلو
فلسطین کی ماؤں کی آنکھیں ہیں,اشکوں میں ڈوبی ہوئیں
اُن کے لئے دنیا بھر میں بغاوت,اُٹھانے چلو
جو قُدس کے کوچے میں شہید ہوئے ہیں بے گناہ
اُن کی قبروں پہ ایمان کے پھول,چڑھانے چلو
یہ وقت نہیں خاموشی کا، تاریخ ہے پھر سے بنانی ماہی
مسجد کی مٹی کو پھر سجدوں سے,سجانے چلو
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






