فلسطین کو بچانے چلو

Poet: اسد خان ماہی By: اسد رضا, Bhakkar

ظلمت کے اندھیروں میں حق کا دِیپ,جلانے چلو
اٹھو مسلمانوں,فلسطین کو,بچانے چلو

جو سو گئے ہیں محلوں میں,حکمرانانِ مسلماں
ان بیغرتوں کو نیند سے,جگانے چلو

دنیا کے جو ٹھیکیدار ہیں,انکو بھی آزما لیا ہم نے
مکر و فریب کے چہروں سے اب پردہ,اٹھانے چلو

اقصی کو تو ہم نہ بچاسکے اے میرے رب
صلاح الدین کا نام لے کر,دِل دشمن کو ,ہلانے چلو

یہ جو ڈرے بیٹھے ہیں,موت کے بہانے سے
اُن کو شجاعت کے قصّے,اب پھر سے,سنانے چلو

فلسطین کی ماؤں کی آنکھیں ہیں,اشکوں میں ڈوبی ہوئیں
اُن کے لئے دنیا بھر میں بغاوت,اُٹھانے چلو

جو قُدس کے کوچے میں شہید ہوئے ہیں بے گناہ
اُن کی قبروں پہ ایمان کے پھول,چڑھانے چلو

یہ وقت نہیں خاموشی کا، تاریخ ہے پھر سے بنانی ماہی
مسجد کی مٹی کو پھر سجدوں سے,سجانے چلو

Rate it:
Views: 185
10 Apr, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL