یہ سوچ لو
Poet: Shabeeb Hashmi By: Shabeeb Hashmi, Al-Khobar K.S.Aیہ سوچ لو
کہ محبتوں کا یہ سفر
بڑی کھٹن ہے راہ گزر
ہر اک قدم پہ ہے جبر
بہک ناں جائے جو تو اگر
تو میرے ساتھ چل پڑو
یہ سوچ لو
کہ رسم و رواج کی مجبوریاں
اپنوں سے لمبی دوریاں
معاشرے کی ناسوریاں
تجھے اگر ہے سب قبول
تو میرے ساتھ چل پڑو
یہ سوچ لو
گر میری وفا پہ ہے یقیں
ناں ڈگمگانا پھر کہیں
میرا گھر ہو تیری زمیں
بننا ہے میرا ہم نشیں
تو میرے ساتھ چل پڑو
یہ سوچ لو
یہ چاہتوں کا آسماں
یہ دکھ اور سکھ کا رازداں
یہ سمندر محبتوں کا بے کراں
جھکے اگر تیری جبیں
تو میرے ساتھ چل پڑو
یہ سوچ لو
اب ہے تو گر رضامند
میرا ساتھ ہے تجھے پسند
تو ڈال دو دل پے کمند
ساتھ لے کے ہر امنگ
میرے ساتھ چل پڑو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






