یہ شکوے تھے کہ زباں تک آ ہی نہ پاۓ
Poet: Rizwana aziz By: Rizwana aziz, Karachiیہ شکوے تھے کہ زباں تک آ ہی نہ پاۓ
روداد اپنی ہم انھیں سنا بھی نہ پاۓ
سرد مہری کہ لفظو ں نے خو د کشی کرلی
جو بات دل میں تھی انہیں بتا ہی نہ پاۓ
یہ ناتا ادھورا سا ایک کسک بن کے رہ گیا
چپ چاپ گئے وہ آوازہم لگا بھی نہ پاۓ
اک بڑا ہی زندگی کا یہ عجیب خسارہ تھا
ہم گنواں کے انھیں پچھتا بھی نہ پاۓ
سیلاب وہ کہ روح تک بھیگی جاتی تھی
اور ہم کہ ایک اشک تک بہا بھی نہ پاۓ
تقدیر یہ کہ اک بار پھر سے وہ رو برو آ گئے
اور دیکھ کر ہم انہیں مسکرا بھی نہ پا ۓ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






