یہ عادت دل دکھانے کی کہاں سے سیکھ لی تم نے
Poet: Tasleem Ahmed Dani By: Tasleem Ahmed Dani, Islamabadیہ عادت دل دکھانے کی کہاں سے سیکھ لی تم نے
یہ روایت روٹھ جانےکی کہاں سے سیکھ لی تم نے
آنکھیں بند کر کے کر لیتے تھے جس پہ تم اعتبار
عادت اسی کو آزمانے کی کہاں سے سیکھ لی تم نے
سنا تھاکہ ہندو جلایاکرتے ہیں اپنے مردوں کو
یہ روایت زندوں کو جلانےکی کہاں سے سیکھ لی تم نے
جسے ہر غم کا اپنے سنایا کرتے تھے تم افسانہ
یہ عادت اسی کو ستانےکی کہاں سے سیکھ لی تم نے
جسے خیالوں میں بھی یاد رکھنے کا دعوی کرتے تھے دانی
پھر آج عادت اسے بھول جانےکی کہاں سے سیکھ لی تم نے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






