یہ عذاب آگہی

Poet: hira By: hira, gojra

یہ عذاب آگہی مجھ کو ڈبوئے جاتا ہے
درد کا سمندر میرے آنسوؤں میں شامل ہے

تم میرے ہو کر بھی میرے نہیں ہو
تیرا ملنا جیسے اک آرزو لاحاصل ہے

میں مر گیا ہوں مگر نظر آتا ہوں سب کو
میری روح، میری زات کاوہ قاتل ہے

ہر کسی سے میرے ذکر پہ مسکراتا ہے
اس کی مسکان سے لگتا ہےوہ بہت بددل ہے

اس کا وعدہ ہے میرے جنازے پہ نہیں آئے گا
عشق میں مر جانے کا وہ تو قائل ہے

کسی اور کے سنگ دیکھا تو لگا سب ادھورا
میں تو سمجھا تھا کہ اب زندگی مکمل ہے

اب عشق میں ہوش و حواس کھو چکا ہوں میں
لوگ کہتے ہیں یہ دیوانہ ہے ، اگ پاگل ہے

Rate it:
Views: 481
14 Jan, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL