یہ غم پھر سے ابھرتا جا رہا ہے

Poet: امت شرما میت By: عاقب, karachi

یہ غم پھر سے ابھرتا جا رہا ہے
مجھے حیران کرتا جا رہا ہے

سنا معیار گرتا جا رہا ہے
مگر بندہ نکھرتا جا رہا ہے

مجھے یہ کیا ہوا ہے کچھ دنوں سے
ترا احساس مرتا جا رہا ہے

اماں اس خواب کو بھی کیا کہیں اب
بکھرنا تھا بکھرتا جا رہا ہے

ترا خاموشیوں کو وقت دینا
صداؤں کو اکھرتا جا رہا ہے

ہمیں نے ہی اسے رستہ دیا تھا
ہمیں پہ پاؤں دھرتا جا رہا ہے

پرانی دیکھ کر تصویر تیری
نیا ہر دن گزرتا جا رہا ہے

میں جتنی اور پیتا جا رہا ہوں
نشہ اتنا اترتا جا رہا ہے

سنا ہے میتؔ خوابوں سے نکل کر
وہ آنکھوں میں ٹھہرتا جا رہا ہے

Rate it:
Views: 597
11 Nov, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL