یہ محبت کا صلہ تھا عشق کا انجام تھا
Poet: عارف نقشبندی By: مصدق رفیق, Karachiیہ محبت کا صلہ تھا عشق کا انجام تھا
پھول کا ہنسنا ہی اس کی موت کا پیغام تھا
غم نہ دیتے آپ تو راحت سے کس کو کام تھا
زندگی کی گردشوں کے ساتھ دور جام تھا
ٹھوکریں کھاتے گئے لب پر تمہارا نام تھا
حشر کا منظر تھا راہ عشق میں جو گام تھا
آپ کیوں آنسو بہائیں میرے حال زار پر
عشق کا نکلا وہی انجام جو انجام تھا
بن گیا ہر سانس قاتل رنج ہے تو بس یہی
زندگی نے مار ڈالا موت پر الزام تھا
تھا تمہارے سامنے بے کیف رنگ گلستاں
دیدۂ نرگس تو کہنے کو چھلکتا جام تھا
دیکھنے والے کہیں گے میری بربادی کا حال
آشیانہ جل رہا تھا میں اسیر دام تھا
گریۂ شبنم سے آتی ہے گلوں میں تازگی
میرا رونا بھی کسی کے عیش کا پیغام تھا
برق کے کیا ہاتھ آیا کیا ملا صیاد کو
چار تنکوں کے نہ رہنے سے چمن بدنام تھا
جلنے والا ہی سمجھ سکتا ہے دل کی آگ کو
ہجر میں عارفؔ مرا ہمدم چراغ شام تھا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






