کمال عشق میں سوز نہاں باقی نہیں رہتا

Poet: عارف نقشبندی By: مصدق رفیق, Karachi

کمال عشق میں سوز نہاں باقی نہیں رہتا
بھڑک جاتے ہیں جب شعلے دھواں باقی نہیں رہتا

جبیں تو پھر جبیں ہے آستاں باقی نہیں رہتا
جہاں تم ہو کسی کا بھی نشاں باقی نہیں رہتا

تمہیں دیکھوں تو کیا دیکھوں تمہیں سمجھوں کو کیا سمجھوں
محبت میں تو اپنا بھی گماں باقی نہیں رہتا

انہیں سے پوچھئے یہ ان کے دل پر کیا گزرتی ہے
بہاروں میں بھی جن کا آشیاں باقی نہیں رہتا

کبھی یاد ان کی آئی ہے کبھی وہ خود بھی آتے ہیں
محبت میں حجاب درمیاں باقی نہیں رہتا

محبت راس آتی ہے تو چھا جاتی ہے دنیا پر
بگڑتی ہے تو پھر نام و نشاں باقی نہیں رہتا

خزاں میں لالہ و گل کا بھرم بھی کھل ہی جاتا ہے
ہمیشہ تو فریب گلستاں باقی نہیں رہتا

اسی منزل میں آتے ہیں کہیں دیر و حرم عارفؔ
حریم دل سے بچ کر آستاں باقی نہیں رہتا
 

Rate it:
Views: 226
25 Apr, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL