کمال عشق میں سوز نہاں باقی نہیں رہتا
Poet: عارف نقشبندی By: مصدق رفیق, Karachiکمال عشق میں سوز نہاں باقی نہیں رہتا
بھڑک جاتے ہیں جب شعلے دھواں باقی نہیں رہتا
جبیں تو پھر جبیں ہے آستاں باقی نہیں رہتا
جہاں تم ہو کسی کا بھی نشاں باقی نہیں رہتا
تمہیں دیکھوں تو کیا دیکھوں تمہیں سمجھوں کو کیا سمجھوں
محبت میں تو اپنا بھی گماں باقی نہیں رہتا
انہیں سے پوچھئے یہ ان کے دل پر کیا گزرتی ہے
بہاروں میں بھی جن کا آشیاں باقی نہیں رہتا
کبھی یاد ان کی آئی ہے کبھی وہ خود بھی آتے ہیں
محبت میں حجاب درمیاں باقی نہیں رہتا
محبت راس آتی ہے تو چھا جاتی ہے دنیا پر
بگڑتی ہے تو پھر نام و نشاں باقی نہیں رہتا
خزاں میں لالہ و گل کا بھرم بھی کھل ہی جاتا ہے
ہمیشہ تو فریب گلستاں باقی نہیں رہتا
اسی منزل میں آتے ہیں کہیں دیر و حرم عارفؔ
حریم دل سے بچ کر آستاں باقی نہیں رہتا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






