بحر ہستی سے بھی جی گھبرا گیا

Poet: عارف نقشبندی By: مصدق رفیق, Karachi

بحر ہستی سے بھی جی گھبرا گیا
بے کسی بس اب کنارا آ گیا

کم ہوا کرتے ہیں ایسے خوش نصیب
تجھ پہ مر کر جن کو جینا آ گیا

میرا مٹ جانا تماشا تھا کوئی
آپ سے یہ کس طرح دیکھا گیا

دکھ برے دل کی کہانی کچھ نہ پوچھ
پھول کے ہنسنے پہ رونا آ گیا

صبح کرنا شام غم کا الاماں
شمع کو دانتوں پسینہ آ گیا

خوش رہو تم چل بسا بیمار غم
عمر بھر کی الجھنیں سلجھا گیا

راہ الفت میں ہے مرنا زندگی
درد منزل تک مجھے پہنچا گیا

موسم گل بھی ہے آنکھوں میں خزاں
دل ہی کیا بیٹھا چمن مرجھا گیا

وہ ہوئے کیا آنکھ سے عارفؔ نہاں
ساری دنیا میں اندھیرا چھا گیا
 

Rate it:
Views: 250
25 Apr, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL