یہ منتشر مُراد قافلہ یوں لشکر کھودیتا ہے

Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithi

یہ منتشر مُراد قافلہ یوں لشکر کھودیتا ہے
جیسے صحرا کا بھٹکا مسافر اپنا گذر کھودیتا ہے

نظاروں کے پیچھے تو سرگردان ہیں کہانیاں
کہیں نگاہ کا سرور اپنی نظر کھودیتا ہے

وہاں دل جوڑدو جہاں مزاج یکسانی ہو
ہر پہلو سے جڑ جانا قدر کھودیتا ہے

عمل خیر کے بعد بھی کوئی بخشش نہ ملے
ایسے اس جہاں کا احساس اَثر کھودیتا ہے

جس نے اپنی دہڑکن میں سرد آہ نہیں پائی
جدت میں آکر وہ دیوانہ جگر کھودیتا ہے

یہ حالات اور ہم! کتنا ترسیں گے سنتوشؔ
مجھے تو اپنی زندگی کا فکر کھودیتا ہے

 

Rate it:
Views: 576
03 Feb, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL