یہ کس نے کہہ دیا کہ تجھکو طلاق ہے
Poet: Saeed Akhter Rahi By: Saeed Akhter Rahi, karachiہاں میرے ساتھ کیا حسین اتفاق ہے
وہ میرے شہر میں ہے لیکن فراق ہے
جو میری زندگی کی رفیق شریک ہے
معراج عشق میں وہ پہلی براق ہے
گر میں کسی وجہ سے تجھے حق نہ دے سکا
یہ کس نے کہہ دیا کہ تجھکو طلاق ہے
دنیا میں جتنے دل بھی دھڑکتے ہیں پیار میں
وہ بھی ہمارے پیار کا سیاق و سباق ہے
سچ ہے محبتوں کی بہاریں ہیں سوگوار
لیکن خزاں میں اب بھی وہی طمطمراق ہے
نازل ہوا ہے یہ بھی عذاب آسمان سے
ہر گھر میں دیکھتا ہوں بہت ہی نفاق ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






