یہ کہانی پھر سہی

Poet: Ghulam abbas By: Ghulam Abbas, Lahore

ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی
کس نے توڑا دل ہمارا یہ کہانی پھر سہی

دل کے لُٹنے کا سبب نہ پوچھو سب کے سامنے
نام آئے گا تمہارا یہ کہانی پھر سہی

نفرتوں کےتیر کھائے دوستوں کے شہر میں
میںنے کس کس کو پکارا یہ کہانی پھر سہی

عشق کی بازی وفا کی راہ میں
کون جیتا کون ہارا یہ کہانی پھر سہی

سوز عشق جان لیوا کیوں ہُوا
کس کا ڈولا خون سارا یہ کہانی پھر سہی

دوست دشمن دیکھ کر میرے حالات
کر گئے سب کیوں کنارہ یہ کہانی پھر سہی

وقت مرگ زندگی کے واسطے
کون تھا میراسہارا یہ کہانی پھر سہی

ہمارا دامن داغ دار ہے مگر
کس نے رکھا ہم کو پیارا یہ کہانی پھر سہی

تڑپ گئے ترس گئے دیدار کو
چمکے گا پر کب ستارہ یہ کہانی پھر سہی

سوچتے ہیں کیوں کر شاکر ہوئے
کس نے رکھا نام ہمارا یہ کہانی پھر سہی

Rate it:
Views: 2348
17 Oct, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL