یہ گماں ہوا کہ کٹ کے بکھر گیا تھا

Poet: عدن زری By: عدن زری , Faisalabad

یہ گماں ہوا کہ کٹ کے بکھر گیا تھا
وہ سر جو نوک ِ سناں پہ نکھر گیا تھا

صبح دم جو ہمنوا اپنی مسافت کا تھا
شام ڈھلتے ہی وہ دیا ، کدھر گیا تھا

پھر یوں یاد کرنے لگے لوگ 'سقراط' کو
اک بغاوت کرنے والا مر گیا تھا

تب جا کر میں اس کے دل میں اترا
جب وہ میرے دل سے اتر گیا تھا

شاید حسن ہی تھی کالک اسکے بدن کی
بڑھاپے میں اسکا لہجہ ، سنور گیا تھا

تاریخ گواہ بحر و بر کا وہ سکندر ہوا
کشتیاں جلا کے جو ، مومن مرد گیا تھا

رو پڑیں گلے لگ کے دیواریں 'عدن' ؑ
شاید مدت بعد وہ آوارہ ، گھر گیا تھا

سکوتِ شب سے انتخاب

 

Rate it:
Views: 466
28 Nov, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL