یہ گولیاں کیوں چلائی جاتی ہیں
Poet: Shaikh Khalid Zahid By: Shaikh Khalid Zahid, Karachiیہ گولیاں کیوں چلائی جاتی ہیں
یہ کتنا شور مچاتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صفِ ماتم بچھاتی ہیں
ہنستے بستے آنگن اجاڑ دیتی ہیں
کوئی دشمن نہیں انکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ کوئی دوست ہوتا ہے
کوئی بتائے ان آگ اگلتی مشینوں کو
تم میں سے جو عجب آگ نکلتی ہے
یہ چراغِ زندگی کو گل کرتی ہے
یہ آگ احساس سے عاری ہوتی ہے
جو نہ تیری ہوتی ہیں
نہ میری ہوتی ہیں
اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب بچھڑ جاتا ہے
کوئی بہت پیارا اپنا
کتنا کہرام مچتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی زارو قطار روتا ہے
معصوم بچوں کہ سر سے سایہ چھین لیتی ہیں
دنیا جنہیں یتیم کہتی ہے
ماں کا لختِ جگر دفن ہوجاتا ہے
ایک عورت پاگل سی دکھتی ہے
سفید لبادے میں ملبوس ہوتی ہے
وہ بیوہ کہلاتی ہے
ساتھ جینے مرنے کہ وعدے
جب اس بیوہ کو یاد آتے ہیں
کسی کو کیا معلوم دل پر کتنے نشتر چل جاتے ہیں
سب ٹوٹ جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔زمانہ جیسے روٹھ جاتا ہے
سب قصے پرانے ہوتے جاتے ہیں
مگر ایک سوال ہے جو سب اٹھاتے ہیں
یہ گولیاں کیوں چلائی جاتی ہیں
یہ کتنا شور مچاتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔صفِ ماتم بچھاتی ہیں۔
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






