یہ ھماری وفا نہیں تو کیا ھے
Poet: Ayesha khan By: Ayesha khan, d,pakistanھمارا تیرے ساتھ ھونا
یہ ھماری وفا نہیں تو کیا ھے
تیرے لئیے ساری دنیا بھلا دی
یہ ھماری وفا نہیں تو کیا ھے
تیرے دکھ میں اپنی خوسیاں چھوڑ کر
تیرے دکھ کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا
یہ ھماری وفا نہیں تو کیا ھے
تجھ پہ اپنی خوشیاں قربان کر دی
یہ ھماری وفا نیہں تو کیا ھے
تیرے کہنے پہ سورج کو چاند اور چاند کو سورج کہا
یہ ھماری وفا نہیں تو کیا ھے
ھر دعا میں خود کو چھوڑ کر تیری خوشیاں مانگی
یہ ھماری وفا نہں تو کیاھے
تو بستا ھے اس دل میں کسی اور کو بسنے نہیں دیا
یہ ھماری وفا نہیں تو کیا ھے
ساری عمر تیری یاد میں گزار دیا
یہ ھماری وفا نہیں تو کیا ھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






