یہ ہے دل میں اتر جانے کا موسم
Poet: By: AB shahzad, Mailsiیہ ہے دل میں اتر جانے کا موسم
ابھی ہے کچھ یہ کر جانے کا موسم
ابھی ہے دھند ساجن سے نہ ملنا
ابھی ہے سرد مر جانے کا موسم
فضاؤں میں پرندے جھومتے ہیں
ہے اپنے اب نگر جانے کا موسم
نظارے ہیں حسیں پیارے ہی پیارے
فضاؤں میں ہے بکھر جانے کا موسم
چکی ہیں جاگ میری خواہشیں سب
ابھی آیا ہے گھر جانے کا موسم
نہیں چھوڑوں گا ساجن ہاتھ تیرا
نہیں ہے اب بچھڑ جانے کا موسم
نہیں شہزاد چھوڑے گا تجھے وہ
بلا سے ہے گزر جانے کا موسم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






