یہاں ہر چیز لکھی ہے
Poet: انور جمال انور By: انور جمال انور , karachiفلک لیتا ہے یونہی امتحاں ہر چیز لکھی ہے
کہاں جینا ہے مرنا ہے کہاں ہر چیز لکھی ہے
کبھی بولوں تو لگتا ہے کہ میں دھرا رہا ہوں کچھ
کبھی لکھوں تو لگتا ہے یہاں ہر چیز لکھی ہے
جو چپ رہتے ہیں وہ ہم سے زیادہ ظرف والے ہیں
کہ کھولیں بھی تو کیا کھولیں زباں ، ہر چیز لکھی ہے
تمہارا پیار قسمت میں ہوا تو مل ہی جائے گا
نگاہ_ التفات_ دوستاں ، ہر چیز لکھی ہے
نہ بدلی ہے نہ بدلے گی کبھی تقدیر دنیا کی
میاں کرتے رہو آہ و فغاں ہر چیز لکھی ہے
جنہیں پڑھنا ہو پڑھ لیتے ہیں لوح و عرش کی باتیں
اگر سمجھو تو زیر_ آسماں ہر چیز لکھی ہے
اگر تم بدگماں ہو تو یہاں کچھ بھی نہیں لکھا
اگر ہو خوش گماں انور تو ہاں ہر چیز لکھی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






