ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﺗﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﺑﯽ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﺗﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﺑﯽ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ
ﺗﻮ ﻧﮯ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﯽ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ
ﺟﺎﮔﺘﮯ ﺟﺎﮔﺘﮯ ﺍﮎ ﻋﻤﺮ ﮐﭩﯽ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ
ﺟﺎﻥ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺳﺎﻧﺲ ﺭﮐﯽ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ
ﮨﺮ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﭘﮧ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﯾﮩﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺗﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮ ﭘﻮﭼﮫ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﺟﯿﺴﮯ
ﺭﺍﮦ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻤﯿﮟ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﻧﻈﺮ ﭼﭙﮑﮯ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﺟﯿﺴﮯ
ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺤﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﭧ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗﯿﺰ ﺑﮩﺖ ﺗﯿﺰ ﭼﻠﯽ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ
ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﭘﮩﺮﻭﮞ ﺗﺠﮭﮯ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﻣﯿﺮﯼ ﮨﺮ ﺳﺎﻧﺲ ﺗﯿﺮﮮ ﻧﺎﻡ ﻟﮑﮭﯽ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﺗﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﺑﯽ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ
ﺗﻮ ﻧﮯ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﯽ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






