ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﺗﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﺑﯽ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﺗﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﺑﯽ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ
ﺗﻮ ﻧﮯ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﯽ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ
ﺟﺎﮔﺘﮯ ﺟﺎﮔﺘﮯ ﺍﮎ ﻋﻤﺮ ﮐﭩﯽ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ
ﺟﺎﻥ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺳﺎﻧﺲ ﺭﮐﯽ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ
ﮨﺮ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﭘﮧ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﯾﮩﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺗﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮ ﭘﻮﭼﮫ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﺟﯿﺴﮯ
ﺭﺍﮦ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻤﯿﮟ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﻧﻈﺮ ﭼﭙﮑﮯ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﺟﯿﺴﮯ
ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺤﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﭧ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗﯿﺰ ﺑﮩﺖ ﺗﯿﺰ ﭼﻠﯽ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ
ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﭘﮩﺮﻭﮞ ﺗﺠﮭﮯ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﻣﯿﺮﯼ ﮨﺮ ﺳﺎﻧﺲ ﺗﯿﺮﮮ ﻧﺎﻡ ﻟﮑﮭﯽ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﺗﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﺑﯽ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ
ﺗﻮ ﻧﮯ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﯽ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL






