ﮨﺎﺗﮫ ﮐﯽ ﻟﮑﯿﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ

Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

ﮨﺎﺗﮫ ﮐﯽ ﻟﮑﯿﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ
ﮐﯿﺎ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ

ﺍﻥ ﻓﻀﻮﻝ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﮐﺲ ﻟﺌﮯ ﺍﻟﺠﮭﺘﮯ ﮨﻮ

ﺟﺲ ﮐﻮ ﻣﻠﻨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﺑﻦ ﻟﮑﯿﺮ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮨﯽ

ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﻮﮞ ﭘﺮ
ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ

ﭘﮭﺮ ﮐﮩﺎﮞ ﺑﭽﮭﮍﺗﺎ ﮨﮯ
ﺟﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻘﺪﺭ ﻣﯿﮟ

ﮐﺐ ﻭﮦ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ
ﮨﺎﺗﮫ ﮐﯽ ﻟﮑﯿﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ
ﮐﯿﺎ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ

 

Rate it:
Views: 904
13 Nov, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL