ﺷﺎﻋﺮﯼ ﺟﮭﻮﭦ ﺳﮩﯽ، ﻋﺸﻖ ﻓﺴﺎﻧﮧ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ

Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

ﺷﺎﻋﺮﯼ ﺟﮭﻮﭦ ﺳﮩﯽ، ﻋﺸﻖ ﻓﺴﺎﻧﮧ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ
ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ

ﺍﯾﮏ ﻧﻈﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﺗﻤﺎﺷﺎ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ
ﺗﯿﺮﺍ ﭘﺮﺩﮦ، ﺗﯿﺮﯼ ﺩﻭﺭﯼ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﺎ ﺗﻘﺎﺿﮧ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ

ﻧﻈﺮ ﺑﮭﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﻼ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ
ﮨﺎﮞ ﺗﻢ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺳﮩﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺭﺳﻮﺍ ﮨﯽﺳﮩﯽ

ﮨﻢ ﺗﯿﺮﮮ ﺩﺭ ﭘﮧ ﺻﺪﺍ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺁﺋﯿﮟﮔﮯ
ﻧﮧ ﻣﻼ ﻃﺮﺯ ﻓﻘﯿﺮﯼ ﺗﻮ ﺩﯾﺪ ﮐﺎ ﮐﺎﺳﮧ ﮨﯽﺳﮩﯽ

ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺭﺩ ﺳﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﻧﺠﺎﻥ ﺑﻨﺎ ﺭﮨﺘﺎﮨﮯ
ﻭﮦ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺤﺴﻦ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ، ﺩﺭﺩ ﺷﻨﺎﺳﺎﮨﯽ ﺳﮩﯽ

ﺍﺗﻨﯽ ﺗﻮ ﺧﯿﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮨﮯ ﮐﮧﺟﺪﺍﺋﯽ ﺳﮩﮧ ﻟﯿﮟ
ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﭘﻨﺪﺍﺭ ﺩﻝ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﭼﻠﻮﺗﮭﻮﮌﺍ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ

ﮨﻢ ﺗﯿﺮﮮ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﺁﺧﺮ ﮐﺎﺭ ﻣﻮﺳٰﯽ ﺗﻮﺑﻨﮯ
ﻣﻌﺠﺰﮦ ﻃﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﺗﯿﺮﺍ ﺟﻠﻮﮦ ﮨﯽﺳﮩﯽ

ﺗﯿﺮ ﺟﻮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻟﮕﮯ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﻋﻨﺎﯾﺖﮨﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ
ﺗﻮ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺳﻮﭼﺎ ﻧﻔﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﭘﻨﮩﺎﮞ ﮨﯽﺳﮩﯽ

ﭼﻠﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﭨﮭﮩﺮﯼ
ﺧﻮﻑ ﻣﺤﺸﺮ ﻧﮧ ﺳﮩﯽ ﻭﮦ ﻏﻢ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮨﯽﺳﮩﯽ

Rate it:
Views: 1148
19 Nov, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL