ﻋﺠﯿﺐ ﻣﻮﺳﻢ ﮨﮯ ﺑﺎﺭﺷﻮﮞ ﮐﺎ

Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

ﻋﺠﯿﺐ ﻣﻮﺳﻢ ﮨﮯ ﺑﺎﺭﺷﻮﮞ ﮐﺎ
ﮐﮧ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺟﺬﺑﮯ ﺳﻠﮓ ﺭﮨﮯ ﮨﯽ
ﺩﮬﻮﺍﮞ ﺩﮬﻮﺍﮞ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﮭﯿﮕﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
ﺟﮕﺮ ﮐﮯ ﭼﮭﺎﻟﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﭗ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﺟﻠﮯ ﮨﻮﺅﮞ ﮐﻮ ﺟﻼ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ
ﻋﺠﯿﺐ ﻣﻮﺳﻢ ﮨﮯ ﺑﺎﺭﺷﻮﮞ ﮐﺎ
ﭘﯿﺎﻡ ﮐﻮﺋﯽ ، ﺳﻼﻡ ﮐﻮﺋﯽ
ﮔﻼﺏ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﻮﺋﯽ
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ، ﭘﮩﻠﮯ ﭘﺎﯾﺎ ﮨﯽ ﮐﺐ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟﻧﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺟﺬﺑﮧ ﺗﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﯾﮧ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﺟﮕﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ
ﻋﺠﯿﺐ ﻣﻮﺳﻢ ﮨﮯ ﺑﺎﺭﺷﻮﮞ ﮐﺎ
ﺟﻮ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺩﮬﺮﺗﯽ ﮐﮯ ﺭﻧﮓ ﺳﺎﺭﮮ
ﻣﭩﺎﺭﮨﺎ ﮨﮯ ، ﺳﺘﺎﺭﮨﺎ ﮨﮯ

Rate it:
Views: 699
07 Nov, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL