ﻋﻤﺮ ﮔﺰﺭﮮ ﮔﯽ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ

Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

ﻋﻤﺮ ﮔﺰﺭﮮ ﮔﯽ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ
ﺩﺍﻍ ﮨﯽ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺩﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ

ﻣﺮﯼ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﺑﮯ ﺍﺛﺮ ﮨﯽ ﺭﮨﯽ
ﻧَﻘﺺ ﮨﮯ ﮐﭽﮫ ﻣﺮﮮ ﺑﯿﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ

ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﭨﻮﮐﺘﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﯾﮩﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ

ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺟﺎﻧﺎ
ﺁﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺮﮮ ﮔﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ

ﮨﮯ ﻧﺴﯿﻢِ ﺑﮩﺎﺭ ﮔﺮﺩ ﺁﻟﻮﺩ
ﺧﺎﮎ ﺍﮌﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﮑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ

ﯾﻮﮞ ﺟﻮ ﺗﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﺗُﻮ
ﮐﻮﺋﯽ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ

ﯾﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﯿﻦ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﺗﺎ
ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺷﺨﺺ ﺗﮭﺎ ﺟﮩﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ

Rate it:
Views: 509
13 Aug, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL