ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﮨﺮ ﺩﺅﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, میانوالیﻗﺘﻞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﮨﺮ ﺩﺅﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﮨﺮ ﻧﯿﺰﮮ ﮐﯽ ﺑﺲ ﻧﻮﮎ ﭘﮧ ﻣﻈﻠﻮﻡ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﺗﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﻮ ﻭﺍﺑﺴﺘﮕﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﻋﺮﺳﮧ ﺳﮯ ﮨﮯ ﭘﺮ
ﺗﯿﺮﮮ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﺑﺮﺳﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﺎﻣﻌﻠﻮﻡ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﮔﻮ ﮐﮧ ﭘﮭﻨﺲ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺑﮭﯽﺣﺎﻻﺕ ﮐﯽ ﺫﺩ ﻣﯿﮟ
ﻣﯿﺮﮮ ﯾﺎﺭ ﻋﺮﻭﺟﻮﮞ ﭘﮧ ﺑﮭﯽ ﻣﻘﺼﻮﻡ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﺏ ﮐﮯ ﺣﺎﮐﻢ_ﺍﻋﻠﯽ ﮐﮯ ﺟﻮ ﻋﮩﺪﮮ ﭘﮧ ﮨﯿﮟ ﻓﺎﺋﺰ
ﮐﺎﻓﯽ ﻋﺮﺳﮧ ﻭﮦ ﺍﻭﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺤﮑﻮﻡ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﮔﻤﺮﺍﮨﯽ ﮐﮯ ﺁﺛﺎﺭ ﻧﻈﺮ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﮨﯿﮟ
ﻣﻼﮞ ﺟﻮ ﺑﺪﻟﺘﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﺑﺎﻗﺮ ﮐﻮﺉ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﮨﯽ ﻗﺎﺗﻞ ﮐﻮ ﺗﻮ ﭘﮑﮍﮮ
ﺁﺯﺍﺩﯼ ﺳﮯ ﻗﺎﺗﻞ ﺗﻮ ﯾﮩﺎﮞ ﮔﮭﻮﻡ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






