ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﮨﺮ ﺩﺅﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, میانوالیﻗﺘﻞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﮨﺮ ﺩﺅﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﮨﺮ ﻧﯿﺰﮮ ﮐﯽ ﺑﺲ ﻧﻮﮎ ﭘﮧ ﻣﻈﻠﻮﻡ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﺗﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﻮ ﻭﺍﺑﺴﺘﮕﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﻋﺮﺳﮧ ﺳﮯ ﮨﮯ ﭘﺮ
ﺗﯿﺮﮮ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﺑﺮﺳﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﺎﻣﻌﻠﻮﻡ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﮔﻮ ﮐﮧ ﭘﮭﻨﺲ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺑﮭﯽﺣﺎﻻﺕ ﮐﯽ ﺫﺩ ﻣﯿﮟ
ﻣﯿﺮﮮ ﯾﺎﺭ ﻋﺮﻭﺟﻮﮞ ﭘﮧ ﺑﮭﯽ ﻣﻘﺼﻮﻡ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﺏ ﮐﮯ ﺣﺎﮐﻢ_ﺍﻋﻠﯽ ﮐﮯ ﺟﻮ ﻋﮩﺪﮮ ﭘﮧ ﮨﯿﮟ ﻓﺎﺋﺰ
ﮐﺎﻓﯽ ﻋﺮﺳﮧ ﻭﮦ ﺍﻭﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺤﮑﻮﻡ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﮔﻤﺮﺍﮨﯽ ﮐﮯ ﺁﺛﺎﺭ ﻧﻈﺮ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﮨﯿﮟ
ﻣﻼﮞ ﺟﻮ ﺑﺪﻟﺘﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﺑﺎﻗﺮ ﮐﻮﺉ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﮨﯽ ﻗﺎﺗﻞ ﮐﻮ ﺗﻮ ﭘﮑﮍﮮ
ﺁﺯﺍﺩﯼ ﺳﮯ ﻗﺎﺗﻞ ﺗﻮ ﯾﮩﺎﮞ ﮔﮭﻮﻡ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL






