ﻣُﺠﮭﮯ ﺗُﻢ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﻮگے
Poet: Shahid Hasrat By: Shahid Hasrat, Multanﺑﭽﮭﮍ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮨﻢ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﯾﺎﺩ ﮐﮯ ﺟُﮕﻨﻮ
ﺗ۔ﻤﮩﺎﺭﯼ ﺷﺐ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ
ﺳِﺘﺎﺭﮦ ﺑﻦ ﮐﮯ ﭼﻤﮑﯿﮟ ﮔﮯ
ﺗُﻤﮩﯿﮟ ﺑﮯ ﭼﯿﻦ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮔﮯ
ﺑﮩﺖ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﺭھﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﮩﺎﻧﮯ ﺗﻢ ﺑﻨﺎﺅ ﮔﮯ
ﺑﮩﺖ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ﺗُﻢ
ﮐﮧ ﺍﺏ ﻣﻮﺳﻢ ﺟﻮ ﺑﺪﻟﯿﮟ ﺗﻮ ھﻤﺎﺭﯼ ﯾﺎﺩ ﻧﮧ ﺁﮰ
ﻣﮕﺮ
ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮩﯿﮟ ھﻮﮔﺎ
ﮐﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﺳﺮﺩ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ
ﺩِﺳﻤﺒﺮ ﮐﯽ ﮨﻮﺍﺅﮞ ﻣﯿﮟ
ﺗُﻤﮭﺎﺭﮮ ﺩﻝ ﮐﮯ ﮔﻮﺷﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﯽ ھﯿﮟ ﺑﺮﻑ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ
ﻭﮦ ﯾﺎﺩﯾﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﭘﮕﮭﻠﯿﮟ ﮔﯽ
ﮐﺒﮭﯽ ﮔﺮﻣﯽ ﮐﯽ ﺗﭙﺘﯽ ﺳُﺮﺥ ﮔﮭﮍﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﺿﯽ ﮐﻮ ﺳﻮﭼﻮ ﮔﮯ
ﺗﻮ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﮭﯿﮓ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ
ﮔﮭﮍﯼ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﻮ ﺩﻭﮌﮮ ﮔﯽ
ﮐﺌﯽ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﮔُﻢ ﮔﺸﺘﮧ ھﻤﺎﺭﯼ ﯾﺎﺩ ﺁﮰ ﮔﯽ
ﺑﭽﮭﮍ ﺟﺎﺅ !! ﻣﮕﺮ ﺳُﻦ ﻟﻮ
ھﻤﺎﺭﮮ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺍﯾﺴﯽ
ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺑﺎﺕ ﺑﮭﯽ ھﻮﮔﯽ
ﺟِﺴﮯ ﺗُﻢ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﻮ ﮔﮯ
ﻣُﺠﮭﮯ ﺗُﻢ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﻮ گے
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL






